زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا
رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا
دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت
حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا
ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی
ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا
وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی
رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا
ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام
رخشِ ہوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا
تیرا جمالِ کم نما آنکھ میں کیا اُتارتے
آئنہ بھی اداس تھا، چاند بھی ہجر زادہ تھا
کیا کبھی خالدؔ اُس سے ہم کرتے بہ قدرِ دل سخن
اُتنے ہی کم سخن رہے، جتنا ہنر زیادہ تھا
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
